How I Became a Drone and Lost Humanity

How I Became a Drone and Lost Humanity

[ur]

میرے سامنے ایک خالی قبر کی تصویر ہے جس میں  گورکن کی مسخ شدہ لاش اس کے پہلو میں پڑی ہے .بد قسمت جنازہ تو قبرستان تک پہنچ ہی نہ پایا اور راستے میں ایک ڈروں حملے کی زد میں آ گیا .مجھ تک ایک اور خبر پہنچتی ہے کہ شادی کی ایک پرمسرت تقریب میں شریک پچاس عورتیں اور بچے بھی ایک ڈرون حملے کے شکار بن گئے ہیں . یہ بظاھر دل ہلا دینے والے واقعیات میرے اندر کوئی جذبہ یا کوئی دکھ پیدا نہیں کرتے کیونکہ میں بے دل ،بے حس اور ڈھیٹ بن چکی ہوں .

بچوں کی تربیت پر لکھے جانے والے مضامین میں ایک اہم نقطہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ان کو جسمانی سزا دینے سے اجتناب کیا جائے یا کم سے کم دی جائے . کیونکہ اکثر اور بے جا مار پیٹ سے وہ ڈھیٹ اور بے حس ہو جاتے ہیں . یہاں تک کہ کچھ عرصے کے بعد وہ اس سزا کی اذیت محسوس کرنے سے بھی عاری ہو جاتے ہیں .

دنیا میں ایک لگاتار  تسلسل سے ہونے والسے اذیت ناک اور اندوہ انگیز واقعات نے مجھے بے حس بنا دیا ہے . آے دیں اخبارات میں  شائع ہونے والے  اور ٹی وی پر دکھائی جانے والے انسانیت سوز مظالم اور بربریت کے مظاہروں نے مجھے ڈھیٹ بنا دیا ہے . میں نے ان کے لیے ایک لاتعلقی اور بے حسی کا رویہ اختیار کر لیا ہے . اپنے محفوظ اور آرام دہ کمرے میںبیٹھے  ہوے یہ واقعیات مجھے متوجہ کرنے میں نا کام رہتے ہیں .میں نے ان تو زندگی ہی ایک حقیقت سمجھ کر قبول کر لیا ہے. یہاں تک کہ ان کے احتجاج میں نکلنے والے جلوسوں اور ریلیوں  کو ایک لا تعلق تماش بین کی طرح بے حسی سے مسکراتے ہوے دیکھتی ہوں اور دل میں سوچتی ہوں  کہ  کیا ہوا ؟ یہ تو عام سی باتیں ہیں ! اتنا شور مچانے اور ہنگامہ کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟

میں نے ایک سیاہ لبادے میں ملبوس عراقی کی تصویر دیکھی جو کہ ایک نو مربع انچ کے ڈبے پر اپنے آپ کو بمشکل سمبھالے  ہونے ہے . اس کے پھیلے ہے ہاتھوں میں بجلی کی تاروں کی میخیں گڑی ہیں اور اس کے قید کرنے والے اسے بار بار یہ دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر وہ اس ڈبے سے گرا تو بجلی کا کرنٹ اسے بھسم کر دے گا . اس تصویر نے مجھےصدیوں پرانے  عیسیٰ کے مصلوب ہونے کا منظر یاد دلا دیا اور مجھے اس میں کوئی نیا پن نظر نہ آیا .

اخبار میں ایک بارہش عراقی کی تصویر نظر آئ، اس کے گلے میں کتے کا پٹا تھا امریکی فوجی اسے گھسیٹتے ہوے لے جا رہے تھے  .یہ تصویر بھی میرے دل میں کوئی درد جگانے میں ناکام رہی اور اس کا تاثر میری بے حس آنکھوں تک ہی محدود رہا .

ایک رسالے کی ورق گردانی کرتے ہوے میں نے ایک شیر خوار بچے کا بے دھڑ کا سر دیکھا جو فلسطین میں اپنے گھر کے ملبے میں پڑا ہوا تھا.  وہ یقیناً اس وقت اپنے نرم بستر میں سو رہا ہو گا جس وقت بل ڈوزروں نے اس کے گھر سمیت تمام شہر کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا .اس کی آنکھیں بند ہیں اور اس  کے پیارے چہرے پر ایک معصوم مسکراہٹ کھیل رہی ہے جیسے وہ کوئی پرمسرت خواب دیکھ رہا ہو. میں لا تعلقی سے اگلا صفحہ پلٹ لیتی ہوں ….

اسی کی دہائی سے لے کر اب تک میں نے ایسی سینکڑوں تصویر وڈیوس اور دوکمنتڑیاں دیکھی ہیں جن میں نہتے کشمیری عوام پر ہندوستانی فوج کے انسانیت سوز مظالم دکھائے گئے ہیں میں نے وہ پوری داستان اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے جس میں کشمیر کی جنت نظیر وادی کو دوزخ میں تبدیل ہوتے دکھایا گیا ہے . میں نے وہ نغمہ بارہا سنا ہے جو کشمیر پر بنی ہی ایک ڈوکممنٹری کے پس منظر میں بجتا ہے….اس کے چند بول مجھے اپ تک یاد ہیں …

میں اپنے ذھن میں اسے دوہراتی ہوں :

دنیا کے منصفو سلامتی کے ضامنو
کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہے کہوں کا شور سنو …

ب اس کی دھوم تیز ہو جاتی ہے :

ماں کے سامنے تڑپ تڑپ کر بیٹا مرا
بھی کے سامنے تار تار بہنوں کی ردا

مگر یہ لے اور یہ الفاظ میرے دل پر اثر انژاد ہونے سے عاری رہتے ہیں… میں لا تعلق رہتی ہوں.

ہماری تہذیب اور ثقافت کے بیش قیمت  مراکز بغداد ، کوفہ ، نجف اور کربلا …بے حرمت ، تباہ و برباد کر دیے گئے .

ہمارے آباء کی نادر  کتابوں کو نذر آتش کر دیا گیا ، یہ سب کچھ دیکھ کر مجھ پر کوئی اثر نہ ہوا یہاں تک کہ حضرت علی (کرم الله وجہہ ) کے مزار کی چھت میں پڑا ہوا سفاک شگاف بھی مجھ میں کوئی رد عمل نہ جگا سکا .

 اب ٢٠٠٤ سے وزیرستان میں دوڑون حملوں کی  نئی گیم جاری ہے . ایک ایسی گیم جو بہت دل چسپ اور  ولولہ انگیز  ہے کیونکہ اس میں اھداف جیتے جاگتے انسان ہیں . اس کھیل میں کھلاڑی کی جیت یقینی ہے اور ہار خراج از امکان ہے .

میں ان دوڑون حملوں کی تباہیوں کی تصاویر دیکھتی ہوں ، ایک بچہ جس کا آدھ سر اڑ چکا ہے ، ایک مسخ شدہ ہاتھ ، جا بہ جا بکھرے ہے انسانی اعضاء ، ایک شوہر کے ہاتھ میں اس کی مرحومہ بیوی کے خون میں لتھڑے ہوے کپڑے … ایک ضعیف عورت اپنے گھر کے ملبے میں سے اپنی دوا تلاش کرتے ہوے…

یہ الفاظ اور سطور لکھتے ہوے میری آنکھوں سے آنسو رواں ہیں جو کہ منظر دھندلا کر مزید لکھنا نا ممکن بنا رہے ہیں . مگر ان آنسوؤں کے علاوہ آپ مجھ سے کسی اور رد عمل کی توقع
نہ رکھیں کیونکہ میں بے حس اور ڈھیٹ ہوں… انتہا درجے کی ڈھیٹ !

Asma Khalid
[/ur]

 

[en]There is a picture of an empty grave with the grave digger lying mutilated beside it, the funeral procession never made it to the graveyard as they were killed in the drone strike. News reaches me that fifty women and children, attending a wedding, are killed in a drone attack. I remain silent and no emotion stirs from within. I am unable to fuel any sentiment as I have become callous, indifferent, stubborn and heartless…

 

An principle in the upbringing of children is moderation in corporal punishment.  Unreasonable, perpetual and constant slapping, beating and other forms of physical abuse may make the child stubborn and thick skinned. ‘Dheet’ is the Urdu word for this behavior. After some time their response to such punishment is just indifference and it fails to move them in any way.

 

The constant and perpetual series of harrowing and gruesome events going on around the world has made me stiff and stubborn.  I have developed an impassive attitude towards the brutalities and the injustices people suffer, which we witness on TV and newspapers every day. Sitting in the comfort my living room, safe in my home, I am no longer appalled at the images before me. I simply accept them as a fact of life. Protesting people, rallies and demonstrations fail to move me and I just watch them as a bystander, sometimes even smiling with contempt.  So what? It’s all routine. What is the great fuss about?

I see a picture in the newspaper;  it is a hooded and wired Iraqi prisoner, standing on a 9” by 9” wooden box.  He is repeatedly told by his captors that he will be electrocuted if he falls off the box, so he is desperately trying to balance himself.  This picture reminds me of the crucification scene, which I have seen hundreds of time so I remain unaffected and unmoved. A picture of a bearded Iraqi soldier, a dog’s leash around his neck, being dragged by US soldier, finds me, pokes me… and yet it does not pierce my conscious or stir any emotion or empathy… I remain cold.

 

Glancing through a magazine, I see the picture of a bodiless head of an infant, lying in the rubble of his home in Palestine.  He must have been sleeping in the comfort of his own bed when the bulldozers turned the whole town to debris. His eyes are closed and his beautiful face is serene as if he is in a comforting dream.  I move on to the next page casually.

 

Since the 80’s, I have seen pictures, videos and documentaries showing the atrocities of the Indian troops in Kashmir. I have followed the gory story of how the ‘Paradise on Earth’ was turned to ‘Hell in Paradise’.  Many a times I have heard and seen the Kashmir Resistance Song on TV. I still remember most of the words. While showing scenes of genocide, torture and the suffering of the Kashmiris; it played…

دنیا کے منصفوں ، سلامتی کے ضامنو

کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوے خون کا شور سنو

 

 

I hum the tune while it plays in my head…The song starts to pick up pace:

ماں کے سامنے تڑپ تڑپ کر بیٹا مرا

بھائی کے سامنے تار تار بہنوں کی ردا

 

 

 

Still I feel nothing and remain insensitive.

 

Cities of our Islamic pride, our heritage, our precious books;  ruined, burned and abused.  Kufa, Najaf and Karbala, reduced to rubble; even a gaping hole in the roof of Hazrat Ali’s shrine stirs no reaction from me.

 

Now there is this ongoing ‘Gaming’ in Waziristan since 2004, games are exciting and more so if the targets are real and the victims are human, and more rewarding too as the players always win and have nothing to lose.

 

I see pictures of the aftermath of drone attacks, pictures of a child with half his head blown away, a severed hand, mangled body parts lying here and there, blood splattered clothes of a woman held by her widower, an old woman searching for her medicine amongst the rubble of her house.

Tears are running down my face as I write these lines…but apart from that do not expect any reaction from me as I have become and am dheet‘dheet’ to the bone!

 

Asma Khalid.[/en]

Similar Posts:

Please share if you like the article

Leave a Reply

Leave a Reply