National Brain Haemorrhage – Rashida Aziz

National Brain Haemorrhage – Rashida Aziz



The Prime minister of a nuclear armed nation is being interviewed by CNN. He is asked, “ Do you know 34% of your people want to leave their country?” The Prime minister replies, “Why don’t they go, who is stopping them!” What unfortunate country can this be, which has such senseless leaders?

This is Pakistan and the leader is the infamous Syed Youef Raza Gillani.

How can you stop the brain drain  and migration of intellectual, technical and other professionals  from the country, where the highest designator bears this approach?

We are already suffering from a ‘brain drain’ and this careless and indifferent attitude is adding to the adversity.

A person like me, who doesn’t want to leave the country even for recreational purposes, now at times, thinks of migrating due to the difficult situation and lack of attention by an unqualified directionless government.

Questions arise what are the factors which are contributing to this menace in Pakistan other than the ‘happy-go-lucky’ attitude of our so called ‘leaders’? How can these issues and factors be addressed?

The reasons

Pakistan has suffered more than any country from Brain Drain Syndrome. There are different reason and factor which have contributed:

1.  Early in their career, young professionals go abroad for higher studies. Due to tough studies they get extremely busy and to support themselves they take up Part time work. This tough schedule doesn’t allow them to have interaction with their parents, relatives and friends. High traveling expenses deter them from visiting their country. By the time they finish their studies they become accustomed to the foreign culture, tradition and society more than their own. So at the end of the day these students, who claim to return back, forget their promises and do not return to Pakistan.


2. Economic, political and social problems compel many people to migrate and settle in other countries. 62% of the youth wants to migrate on plea to have better life and better opportunities. 38% of our youth wants to settle outside permanently. The highest number of British visas is from Pakistan. Every year more than 3000 medical graduates leave Pakistan to other countries.


3. Many highly qualified skilled people get settled abroad just to have the tag of having worked in a foreign country.


4. Systematic and conspiratorial electric and gas load shedding and negative propaganda against the nation and the country by some so called intellectuals adding fuel to this already burning issue.


This en mass drain of intellect is creating innumerable problems for Pakistan. The rampant corruption, poor administration, lack of motivation and diminishing nationalism are a few to name.


It is very easy to sit abroad and criticize the country, its system, its government and above all people! But do they realize that when the educated cream of the country leave, then the uneducated mob follows in suite.


Technically the most talented have to lead, create and eradicate. But if the most educated sit outside, who will do the reform?

Don’t expect any change from the Present clients of swiss banks to do anything new. They are quite happy with the status quo.


What to do now? A big question mark is dancing in front of us. We need committed and loyal people at top level. Without this, we may not stop this drain. So as a nation it’s our responsibility to elect people with positive approach in next election.

To reduce this depletion is at the first place a government responsibility.

The government has to:

  • give incentives to the students who go abroad for the studies so that they come back and serve their country.
  • provide better job opportunities for the highly skilled workers. Make the basic infrastructure better.


But above all an element of sacrifice has to be kept in mind. Government may not be able to provide all the facilities or even none, but as a Pakistani it’s their duty to come back and serve their country. They may not see the result but the future generations will eat the fruit which they will plant today!



Rashida Aziz
ایک امریکی ٹیلی ویژن چینل ’سی۔ا ین۔این‘سے گفتگو کے دوران ایٹمی طاقت کی حا مل قوم کے وزیراعظم سے پوچھا گیا : ’ کیا آپ جانتے ہیں کہ ۳۴ فی صد افراد آپ کے ملک سے جانا چاہتے ہیں ؟‘ محترم وزیراعظم نے جواب دیا :’ وہ چلے کیوں نہیں جاتے ،کس نے روکا ہے ؟ ‘ کتنی بدبخت ہے وہ قوم جس کے سربراہ اتنے حواس باختہ ہیں !

یہ ہے پاکستان اور یہ ہیں اس کہ بدنام وزیراعظم یوسف رضا گیلانی صاحب !
آپ ایسے ملک سے سمجھدار،روشن خیال اور ٹیکنیکل ماہرین کی ہجرت کو کیسے روک سکتے ہیں جس کے اعلی درجے کے حکومتی عہدیدار کا رویہ ایسا ہو ؟

ہم پہلے ہی ہنرمند افراد کی بیرونِ ملک منتقلی کے عمل سے گزر رہے ہیں اور ایسا بے غرض رویہ اس بدبختی میں اضافہ کر رہا ہے.مجھ جیسا شخص جو صرف تفریحی وجوہات کے لیے بھی اپنے ملک کو نہیں چھوڑنا چاہتا ، ان بدلتے ہوئے حالات کو دیکھ کر ، توجہ کی کمی اور نا اہل حکومت کی وجہ سے ہجرت کے بارے میں سوچ سکتا ہے.

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے عناصر ہیں جو پاکستان میں نام نہاد حکمرانوں کے لاابالی اور غیرذمہ دارانہ رویے کے علاوہ اِس رجحان میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں ؟ آخر کس طرح ان تمام وجوہات کو دور کیا جائے؟

پاکستان وہ ملک ہے جہاں پر تمام دنیا سے ذیادہ ذہین لوگوں کی ہجرت کا سلسلہ جاری ہے . اس کی بہت سی وجوہات ہیں :

۱۔ ابتدائی عمر میں نوجوان بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے جاتے ہیں .مشکل پڑھائی کی وجہ سے وہ نہایت ہی مصروف ہو جاتے ہیں اور اخراجات پورے کرنے کے لیے جذوقتی نوکری شروع کر دیتے ہیں. اس قدر مصروفیات کے سبب وہ اپنے والدین، عزیزوعقارب اور دوستوں سے زیادہ رابطہ نہیں رکھ پاتے.بھاری سفری اخراجات اُن کے اپنے وطن میں موجود والدین سے ملاقات میں حائل ہو جاتے ہیں اور جب تک وہ اپنے تعلیمی سفر کو مکمل کرتے ہیں وہ اپنے ملک کی تہذیب اور روایات سے بہت دور اور بدیسی ثقافت کے بہت قریب بلکہ اُس کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں . قصہ مختصر کہ یہ طالبِ علم اپنے وطن واپسی کی نسبت بیرونِ ملک قیام کو ترجیح دیتے ہیں .

۲۔معاشی،سیاسی اور سماجی مشکلات بہت سے لوگوں کو بیرونِ ملک تجارت کرنے پر مجبور کر دیتی ہے. ۶۲ فی صد نوجوان اِس امید پر ہجرت کرتے ہیں کہ اُن کو بہترین بنیادی سہولیاتِ زندگی اور مواقع ملیں گے. ۳۸ فی صد نوجوان بیرونِ ملک مستقل قیام کو ترجیح دیتے ہیں .برطانیہ کے ویزوں کی ایک بہت بڑی تعداد پاکستان سے ہوتی ہے .ہر سال ۳۰۰۰سے زائد ڈاکٹرزپاکستان کوچھوڑ کر دوسرے ملکوں کو چلے جاتے ہیں .

۳۔ بیشتر ا علی تعلیم یافتہ افرادصرف اس لیے بیرونِ ملک رہتے ہیں تاکہ اُن پر بیرونِ ملک نوکری کرنے کی موہر لگ جائے .

۴۔ملک میں منصوبہ بندی کہ تحت بڑھتی ہوئی بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ اور بعض خود ساختہ دانشوروں کی جانب سے ملک و قوم پر کی جانے والی تنقید اور منفی پراپگینڈے نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے.
اثرات :

ملک سے ذہین لوگوں کے انخلا کے باعث پاکستان کو بے انتہا مسائل کا سامنا ہے. جن میں کرپشن کا عفریت ،نا لائق انتظامیہ، جذبے کی کمی اورختم ہوئی حب الوطنی سرِفہرست ہے.

ملک سے باہر بیٹھ کر ، اپنے وطن پر ، اُس کے نظام پر، اُس کی حکومت پر اور سب سے بڑھ کر اُس کے لوگوں پر تنقید کرنا بہت آسان ہے لیکن کیا ان لوگوں نے کبھی یہ سوچا کہ جب تعلیم یافتہ لوگ ملک چھوڑ دیتے ہیں تو جاہل اُن کی جگہ لے لیتے ہیں.

تکنیکی طور پر سب سے زیادہ ذہین لوگ مسا ئل کو تلاش کرتے ہیں،اُن کو حل کرکے ختم کرتے ہیں لیکن اگر یہی لوگ باہر جا بیٹھیں تو پھر تبدیلی کون لائے گا.
یسوئس بینکوں کے موجودہ گاہکوں سے تبدیلی کی امید نا رکھیںیہ لوگ نظام کو جوں کا توں برقرار رکھ کر خوش ہیں.

آخر اب کیا کیاِِ جائے؟

آج ہمارے سامنے یہ سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے کہ آخر کیا کیاِ جائے؟ ہمیں بالائی سطح پر وفادار اور محنتی لوگوں کی ضرورت ہے تا کہ اِس ہجرت کو روکا جا سکے .باحیثیت قوم ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم آئندہ انتخابات میں مثبت سوچ کے حامل لوگوں کو منتخب کریں .

ذہین لوگوں کی اس ہجرت کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت مندرجہ زیل قدم اٹھائے:
۱۔حکومت اُن طالب علموں کو جوپڑھائی کے غرض سے بیرون ملک جاتے ہیں خصوصی مراعات دے تاکہ وہ واپس آکر ملک کی خدمت کریں .

۲۔اعلی تعلیم یافتہ افراد ،ہنر مند افراد کو بہتر ملازمتیں دی جائیں اور جاب انفراسٹرکچر کو بہتر بنا یا جائے .

لیکن سب سے بڑھ کر قربانی کے جذبے کو ذہن میں رکھا جائے حکومت شاید تمام سہولیات مہیا کرنے کے قابل نہ ہو یا شاید کوئی سہولت فراہم کر بھی سکے لیکن باحیثت پاکستانی ہم سب پر فرض ہے کہ وطن واپس آکر ملک کی خدمت کریں ہو سکتا ہے کہ فی الوقت لوگوں کو تمام نتائج نظر نا آئیں لیکن آنے والی نسلیں اس درخت کا پھل کھائیں گی جس کا بیج آج بویا جائے گا.

بہتر کل کے لیے آج آگے بڑھیے ،آج عمل کیجیئے!

پاکستان پائندہ باد!!!

تحریر: راشدہ عزیز
ترجمہ: قراۃالعین خان


Similar Posts:

Please share if you like the article

Leave a Reply

Leave a Reply